187

علی ارمان ۔ تعارف و کلام ۔ شہباز رسول فائق

علی ارمان کا تعارف

مکمل نام: علی ارمان
تخلص: ارمان
تاریخِ پیدائش: 25 اگست 1973
مقامِ پیدائش: راولپنڈی، پنجاب، پاکستان
والد کا نام: چودھری محمد حنیف
تعلیمی سفر: گورڈن کالج، اصغر مال کالج راولپنڈی، لندن سے فلسفے میں گریجوایشن
شعری وابستگی: 1987 سے

علی ارمان اردو دنیا کا جانا مانا نام ہیں- طویل سالوں سے وہ لندن میں مقیم ہیں اور پاکستان، برطانیہ اور دیگر ممالک کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں نمایاں رہتے ہیں- سوشل میڈیا کے تحت دنیا بھر کے اردو شاعروں اور ادیبوں سے بھی وابستہ رہتے ہیں اور تحریکی مزاج کے مالک ہیں-

علی ارمان کی پیدائش 25 اگست 1973 کو راولپنڈی کے علاقے مورگاہ میں ہوئی اور انہوں نے اپنا بچپن اور لڑکپن بھی یہیں گزارا- ابتدائی تعلیم انہوں نے گھر پر لی جس میں دینی تعلیم بھی شامل تھی اور پھر چھے برس کی عمر میں نیو ماڈل اسکول مورگاہ میں دوسری جماعت میں داخل ہوۓ- انہوں نے گورنمنٹ ایلیٹ اسکول مورگاہ سے اسکول میں ٹاپ کرتے ہوۓ میٹرک کیا اور آٹھویں جماعت میں اسکالر شپ بھی حاصل کیا- اس کے بعد وہ راولپنڈی کے مشہور گورڈن کالج اور اصغر مال کالج میں زیرِ تعلیم رہے-

علی ارمان کے والد کا نام چودھری محمد حنیف تھا- وہ اڑتالیس برس کی عمر میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر وفات پا گئے- وہ لیبیا اور ترکی میں بھی رہے اور پھر پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک رہے- وہ میاں محمد بخش اور ان کی سیف الملوک کے مداح تھے اور ان کو بیشتر سیف الملوک ازبر تھی- اس کے علاوہ انھیں فیض کی شاعری سے بھی دلچسپی تھی-

والد کی وفات کے بعد 2001 میں علی ارمان برطانیہ چلے گئے اور شیفیلڈ، برمنگھم، کوونٹری اور لندن میں وقت گزارا- 2010 کے بعد وہ لندن میں مقیم ہو گئے اور وہاں انگریزی ادبی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئے- اس دوران انہوں نے برک بیک یونیورسٹی لندن سے فلسفے میں گریجوایشن کی ڈگری بھی لی-

کتاب اور مطالعے سے بے پناہ تعلق اور حالات و واقعات علی ارمان کو کم عمری میں ہی شعر و ادب کی طرف لے آئے اور انہوں نے چودہ برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کر دیے- وہ سترہ سال کی عمر میں سنجیدہ ادبی حلقوں، حلقہ اربابِ غالب اور حلقہ اربابِ ذوق سے منسلک ہو گئے جہاں ان کی بے پناہ ادبی و شعری تربیت ہوتی رہی- یہاں انھیں اختر عثمان جیسے لوگ میسر آئے جنہوں نے علی ارمان کے ادبی سفر کو اگلی منزلوں کی خبر دی- علی ارمان کی ادبی پرورش میں یوسف حسن، جلیل عالی، رشید امجد، نثار ناسک، اختر امام رضوی، احسان اکبر، افتخار عارف، ضیاء جالندھری، عدیم ہاشمی، خالد احمد اور محبوب خزاں جیسے اساتذہ نے اہم کردار ادا کیا- علی ارمان کو اسی ادبی ماحول کے درمیان انگریزی اور فارسی ادب سے بھی شغف پیدا ہوا اور انہوں نے ان دریاؤں کے پانیوں سے بھی خود کو سیراب کیا-

علی ارمان کا پہلا شعری مجموعہ 1998 میں چوبیس برس کی عمر میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا “سخن تصویر تک پہنچا”- ان کی دوسری کتاب “مجھے چاند چاہیے” تھی جس میں ان کا زیادہ تر اوائل عمری کا کلام شامل تھا- اپنی پہلی کتاب سے ہی علی ارمان نے ایک سنجیدہ اور دیرپا شاعر ہونے کا تاثر دیا اور شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے ناموں نے انھیں سراہا-

علی ارمان کی پنجابی اور پوٹھوہاری شاعری پر مشتمل مجموعہ کلام “مٹی دی بکل” 2009 میں شائع ہوا جسے مسعود کھدر پوش ٹرسٹ کی جانب سے اس سال کی بہترین پنجابی شاعری کی کتابوں میں شامل کر کے ایوارڈ سے نوازا گیا-

علی ارمان نے اردو، پنجابی، پوٹھوہاری اور انگریزی زبانوں میں شاعری کی اور غزل، نظم اور نثری نظم کے میدان اپنائے- البتہ ان کی غزل کو زیادہ شناخت ملی- انہوں نے غزل میں خوب ریاض کیا اور بہت زیادہ لکھا-

علی ارمان لندن میں ایک کمپنی کے ساتھ بطور ای کامرس ایڈمنسٹریٹر وابستہ ہیں- وہ شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے-

علی ارمان کے چند اشعار

حجرے پہ میرے عشق نے آ کر کہا کہ اُٹھ
دروازہ کھول تیری گرفتاری آئی ہے

۔۔۔۔۔
غزل
ؔعلی ارمان

کرتا ہوں میں نہ مجھ سے ریاکاری ہوتی ہے
رندانِ باصفا میں یہ بیماری ہوتی ہے

صحرا کے مدرسے میں فقط قیس ہی نہیں
میرے بھی دستخط سے سند جاری ہوتی ہے

ہوتا نہیں خراب ہراک دشت میں وُہ شخص
جس کو تلاشِ آہوئے تاتاری ہوتی ہے

سورج نکلتا ہے مری ہرایک پور میں
جب شامِ زلفِ سیم تناں طاری ہوتی ہے

تُو اشکباری دیکھنے آیا ہے بیٹھ جا
اور دیکھ کیسے آنکھ سے خوں باری ہوتی ہے

شامِ سبو کے سامنے کھُلتا ہے میرا پول
دن بھر تو قہقہوں کی اداکاری ہوتی ہے

یہ بوجھ لو کا ہے کہ اندھیرے کا، جو بھی ہو
جلتے دیوں پہ رات بہت بھاری ہوتی ہے

تفصیل اس لڑائی کی مجھ سے نہ پوچھیے
ہر روز میری شام سے منہ ماری ہوتی ہے

ارمانؔ بیدلی کا نہیں ہے کوئی علاج
بیزاری سے بھی اب مجھے بیزاری ہوتی ہے

بشکریہ اردو پی ایل وی

https://www.urduplv.com/urdu-poets/ali-arman-urdu-poet-biography-and-poetry

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں