جتنا میں سخن میں ہوا خوشحال زیادہ
ہوتے گئے اتنے مرے نقّال زیادہ
پانی کے کناروں پہ اگی بھوک پکاری
دریا میں ہیں اب مچھلیاں کم جال زیادہ
ہم تیری محبت کے مضافات میں خوش ہیں
ہیں زندگیءِشہر میں جنجال زیادہ
درویش بھی لگتا ہے دکھاوے پہ اُتر آئے
لگتی ہے مجھے حال سے دھمّال زیادہ
اس حضرتِ انسان سے اللہ بچائے
سنتے تھے کہ پستی میں ہے پاتال زیادہ
ہو سکتا ہے بازی کو پلٹ دیتے پیادے
مل جاتی اگر ان کو بس اک چال زیادہ
یہ تتلیاں یونہیں تو نہیں بیٹھتیں تجھ پر
لگتے ہیں انھیں پھول ترے گال زیادہ
دم گھٹتا ہےاک خواہشِ کمبخت کا مجھ میں
تم کھینچ کے باندھا نہ کرو بال زیادہ
ہیں ہجرمیں اس جسم کی رنگینیاں کچھ اور
اب مجھ پہ ہیں طاری وہ خدوخال زیادہ
ارمان زمینیں کبھی بنجر نہیں ہوتیں
شاعر ہیں میرے عہد کے پامال زیادہ