محترم ڈاکٹرعقیل دانش بھائی سے میری پہلی ملاقات کا ایک اعترافیہ
(پوٹھوہار کے سرسوں کے ساگ سے امروہے کے شلجم گوشت تک)
علی ارمانؔ
میں گزشتہ تئیس برس سے برطانیہ اور تیرہ برس سے لندن یا اس کے گردونواح میں مقیم ہوں۔ یعنی علی ارمان نام کی اس رائیگانی دلبرجانی کا نصف اس سرزمین پرگزار چکا ہوں۔ بھلے سے یہاں سورج بہت زیادہ نہ نکلتا ہوں لیکن میری یہاں کی یادوں کی دھنک بہت گہرے اور اجلے رنگوں والی ہے .تقریبا تئیس برس قبل جب بھری پری ادبی محافل اور دوستوں کے آباد حلقہ ہائے رنگ و سنگ و چنگ چھوڑ کرمیں گردشَ ماہ و سال پر دل تنگ و دنگ واصلِ برطانیہ ہوا تو میرا دلِ زار، یہ آہوئے تاتار بہت رنجیدہ اور بہت رمیدہ ہوا اور اس کی آنکھوں میں برطانیہ کے گھنے گہرے بادل دیکھ کر بہت وحشت ناچا کی۔ کہاں سورج کی زندگی پرور روشنی میں دہکتا مہکتا ختن اور کہاں یہ سرزمین بے کرن۔ اپنی محبوب صنف گریہ وزاری یعنی غزل میں بہت واویلا کیا لیکن پھر رفتہ رفتہ غزالِ دل کی رمیدگی میں غزل کی وساطت سے بالیدگی آنے لگی اور شوریدگی کی تہذیب کا شعورغیاب سے حضور ہونے لگا
پہلے ماتم جہری ہوا کرتا تھا پھر غمِ خفی ہوتا گیا اور روح میں تخلیق کے تخمَ تابناک بوتا گیا اور میں شاعر سےکچھ اور بھی شاعر ہوتا گیا یعنی اندر ہی اندر کوئی چُپکے چُپکے سسکیاں سی کر اور ہچکیاں پی کر رونے لگا اور مصرعوں کی تراوت اور حلاوت میں اضافہ ہونے لگا۔لہذا اب میرے کسی مصرعے کی آنکھ کا گوشہ بھیگا دیکھیں یا میرے کسی شعر میں دبی ہوئی کوئی آہ آپ کے لبوں پر واہ بن کر جاری ہو جائے تو سمجھ لیجئے گا
کہ یہ کربلا کے کرب میں میری اپنی نقل مکانی کے دُکھ کی آمیزش کا نتیجہ ہے.
خیربارانِ اشک کی رفتار تو نرم پڑگئی مگرطوفان آہ وبکا کے تھمنے میں زیادہ عرصہ لگا اور ابھی تک یہ غم کی آندھی مکمل طور پر رُکی نہیں، رُکنی چاہیے بھی نہیں ورنہ جینا کاہے کا۔ خیراب بھی گاہے گاہے کوئی آہ لندن کے ایک خاموش طبع مضافات میں ایک حجرے کے ایک کونے سے پوٹھوہار اور اپنے ہر یار کے ہجر کے ہچکولے کھاتی اٹھتی ہے اور سارے پرمحیط ہوجاتی ہے
تنگیءِرزق اور تنگیءِدل نے مل کے عجب پامالی کی
جس کے فرش کی اینٹیں تھے ہم اُس آنگن کو چھوڑ دیا
جس کو گالیاں دیتے تھے اس دھوپ کو ترسو ساری عمر
بارش کے اس شہر میں اب بارش سے جھگڑا مت کرنا
میں نے دھوپ کو خط لکھا ہے
آؤ اور لے جاؤ مجھ کو
سورج صاحب یہاں پہ کم کم آتے ہیں
یہاں پراپنی دھوپ بنانی پڑتی ہے
تو ہوا یوں کہ مورگاہ سے لندن منتقل ہونے کے بعد
میرے اندرگرمیوں کی دھوپ میں
اپنے صحن میں اگے شہتوت کے نیچے
جون کی تپتی دوپہروں میں
گیلے بان کی چارپائی پر لیٹے لیٹے
زردی مائل چٹیل نیلے آسمان پر
قوت تخیّل میں خوش گمانی اور امیّد کی آمیزش سے
بادل اڑانے اور پھر ان بادلوں میں
اپنی مرضی کی تصویریں اور شکلیں بنانے کا جو کارخانہ تھا
اسے میں نے آلات آہ و آرزو میں کچھ ردّوبدل کر کے
دھوپ بنانے کے کارخانے میں تبدیل کرلیا
اور کچھ ہی عرصہ میں
لندن کے گھنے گہرے بادلوں کی سینکڑوں تہوں میں
اٹے سرمئی دنوں میں بھی
اچھی خاصی دھوپ بنانے کے قابل ہوگیا
میری دھوپ گری کی اس نئی صنعت میں
کچھ چاند چہرہ اور ستارہ آنکھوں نے میری بہت مدد کی
جو اب خدا جانے کون سی کائنات کی چھت پرٹمٹماتے ہیں
بہرحال اب تک یاد آتے ہیں
اگرچہ اب لندن میں بھی
غمناک بادل اتنی دہشتناکی سے حملہ آور نہیں ہوتے
اور میرے باطن کا کارخانہ بھی
دھوپ بنانے میں مکمل خودکفیل ہو چکا ہے
اورجب مرے دل کومحبتوں کے فارن ایکسچینج
اور مروتوں کے زرِمبادلہ کی ضرورت پڑتی ہے
تو گاہے بگاہے میں یہ دھوپ
دوسرے متلاشی دلوں کوبرآمد بھی کرلیتا ہوں
لیکن یہ خودکفالت حاصل کرلینے کے باوجود اب بھی کبھی کبھار
کچھ مہربان چہروں کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے
کچھ شفیق لہجوں اور مہذب مکالموں کی مدد سے
اپنی چاند کے غاروں جیسی تنہائی کو
کچھ آباد کرنے کے لیے
میری خوش پوشی اور خوش نوشی پر مت جائیے گا
میں دردوں اور دکھوں کی پوٹلی ہوں
نئے امکانوں اور بے زندگی مریخ جیسے ویرانوں
اور بے آب وگیاہ ریگستانوں میں
اپنے آہ واشک سے ٹیرا فارمنگ کرتا رہتا ہوں
جس کے اثرات شاید کہیں اگلی صدیوں میں ظاہر ہوں گے
اور جب بےمروّتی کے مریخ کی سرخ زنگ آلود مٹی سےمہر ومحبت کی ایک ننھی سی پہلی کونپل پھوٹے گی
تومجھے ان نئے آباد سیّاروں کی مخلوق محبت و مروت کے نئے آدم کے طور پر یاد کرے گی
ہنسیے مت
اگر یہ میری خوش فہمی بھی ہے
تو بھی یہ بدگمانی اور بدزبانی کے اژدہے پالنے سے بہتر ہے
کہ اس زندگی نام کی رائیگانی کو
اسی خوش فہمی کی مہربان دھوپ کےسائے میں
احسن طریقے سے گزارا جا سکتا ہے
پروفیسر عقیل دانش صاحب ان مہربان چہروں اور مشفق لہجوں کی فہرست میں میرے لیے ایک تازہ اضافہ ہیں جن کی معیت میں وجود اس بودونبود کی دہشتناکی کو کچھ دیر نظر انداز کرکے اپنے بنجر ہونٹوں سے منحنی سی مسکراہٹ کی ننھی سی کونپل اگانے کے قابل ہوجاتے ہیں اگرچہ میں برسوں سے ان کے نام اور کام سے آگاہ ہوں لیکن حضرت سے ملاقات کا مجھے کبھی موقع نہ مل سکا۔ ایک ہجرت کے اندرکتنی داخلی اور خارجی ہجرتوں کی راہداریاں اور دل آزاریاں چھپی ہوتی ہیں اس دکھ کو تو مہاجر ہی جان سکتے ہیں
شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابی چنین ھائل
کجا دانند حالِ ما سبکبارانِ ساحلھا
گزشتہ دنوں جب محبوبِ دنیائے ادبِ اردو اور میرے پسندیدہ شخص و شاعر و عالم محترم جناب خورشید رضوی صاحب برطانیہ اپنے فرزندِ ارجمند اور ہمارے پیارے دوست شاعر جناب ڈاکٹرعاصم خورشید کے پاس تشریف لائے اور میں نے ان کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکرانھیں اپنی اور اپنی فقیرانہ سی تنظیم ہراول انٹرنیشنل کی جانب سے ایک شام عنایت کرنے کی استدعا کی توانھوں نے کمال کرم سے اسے قبول فرما لیا۔ اس کے بعد جن صاحب کا خود نام لے کر انھوں نے مجھے اس شام میں مدعو کرنے کی درخواست کی وُہ محترم پروفیسر عقیل دانش صاحب تھے۔ مجھے کچھ شرمندگی سی ہوئی اور فکر بھی لاحق ہوئی کہ میری تو کوئی ملاقات نہیں پروفیسر صاحب سے تو جب انھیں مدعو کروں گا تو وُہ کہیں سرزنش ہی نہ کردیں کہ میاں اتنے برسوں تو آپ جناب کو ہماری یاد نہیں آئی اور اب چلے آئے اپنی گھٹیا سی تنظیم کے ایک پروگرام میں ہمیں مدعو کرنے.
لیکن پھر تسّلی ہوئی کہ میں نے تو درخواست کے اوپر والے کونے میں صرف اتنا لکھ دینا ہے مارکڈ بائی ڈاکٹر خورشید رضوی۔ اللہ اللہ خیرسلّا
میں نے محترم ڈاکٹر خورشید صاحب ہی سے نمبر لے کر جب پروفیسر صاحب کو فون کیا تو دوسری جانب صرف اتنا نرم، شفیق اور کریم لہجہ سن کر ہی سماعتوں میں سورج مکھی کے نرم کومل اور امید افزاء پھول کھل اٹھےاوردل دوبارہ تہذیب وتمدّن پر ایمان لے آیا۔ انھوں نے اتنی محبت سے بات کی کہ میں موم ہو کر اسی جگہ بیٹھ گیا جہاں کھڑاتھا۔ اور یہ شفقت اور محبت انھوں نے میرے عرضِ مدّعا سے قبل ہی مجھ پر نچھاور کردی کہ ابھی میں نے خورشید صاحب کی مارک کی ہوئی درخواست تہہ کرکے اپنی اندرونی جیب ہی میں رکھی ہوئی تھی۔ لہذا اس میں لحاظ یا ریاکاری کا شائبہ تک بھی نہیں ہوسکتا تھا اور نہ ہوا۔
تہذیب وتواضع پروہ ایمان جو سوشل میڈیا پرمشاعروں اور ایوارڈوں کی دوڑ میں جیتنے اور ہارنے والے متشاعروں، نا شاعروں اور لاشاعروں کی آپس کی بے ہودہ توتو میں میں سے آئے روز کمزور پڑتا اور کچلا جاتا ہے
وُہ ڈاکٹر عقیل دانش صاحب جیسے بےغرض اور محبت نچھاور کرنے والے مہربان بزرگ دوست ے مل کر دوبارہ مضبوط ہو جاتا ہے. مجھے لندن میں ایمان تازہ کرنے کے لیے جناب ایوب اولیا پہلے ہی سے میسر تھے اور میں لندن کے اس بنا دھوپ کے چلچلاتے دشت میں دوسری چھاؤں میسر آنے پر دل ہی دل میں خدا کا شکر بجا لانے لگا
ایک مفت مشورہ ہے کہ آپ اگرتہذیب وتواضع اور نرم دلی پر ایمان رکھتے ہیں اور اسےاس عہدِشور وشر انگیز میں پختہ رکھنا اور مزید پختہ تر کرتے رہنا چاہتے ہیں تو اپنے اردگرد کوئی صابر رضا، کوئی اشفاق عامر، کوئی افضل ساحر، کوئی اخترعثمان، کوئی سہیل ضرارخلش، کوئی ڈاکٹرعقیل دانش، کوئی ایوب اولیا یا حوصلہ زیاد ہو تو کوئی محبوب خزاں اور ڈاکٹر خورشید رضوی ضرور تلاش کیجئے اور ان سے بے مدعا و مطلب ملتے رہا کیجئے۔ تاکہ خاتمہ بالخیر ہونے کے امکانات بڑھ جائیں
صحبت صاف دلان جوھراکسیر غناست
بی صدف قطره محالست كه گوھر گردد
پاکستان کی ادبی دنیا میں اس وقت جوطوفان بدتمیزی برپا ہے میں نے اس گندگی کے ڈھیر سے اپنے آپ کوانتہائی حد تک دور رکھنے کی ہمیشہ حتی المقدورکوشش کی ہے لیکن آج کل ذرائع ابلاغ اتنے قبیح و بلیغ ہوچکے ہیں اور ان سے ہماری زندگی کے روزمرہ معاملات دل ودنیا اتنے جڑ چکے ہیں کہ تمام دروازے مضبوطی سے بند کرنے کے باوجود دنیا کا پلید اورزہریلا شوردل میں کسی نہ کسی رستے رس ہی آتا ہے۔
پاکستان میں اس وقت ہرشعبے اور ہر پیشے حتی کہ ہررشتے کو جو زوال اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اس سے نکلنا شاید بہت جلد ہمارے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کے لیے ہر اہل جمال و کمال و صاحبِ حال کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
ہرشعبہ ہائے زندگی میں ایک قبیح ظلم اور صریح ناانصافی پر مبنی معاشرے میں ایسی بدصورتی کا پیدا ہوجانا لازمی ہو جاتا ہے اور پھر اس کنویں کے پانی کو پاک کرنے کے لیے پانی ناپاک ہونے کی اصل وجہ دریافت کر کے اسے دور کرنا پڑتا ہے۔ یہ ادراک نہ ہوتو باقی تمام عمریں اس کنویں میں جتے پانی نکالنے پر مامور آنکھوں پرپٹی بندھے بیلوں کی طرح رائیگاں چلی جاتی ہیں
انتہائی عجز اور انکساری سے اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نےاس چوہوں کی دوڑ یعنی انگریزی محاوے والی ریٹ ریس سے مجھے اپنے کرم سے یوں نکال باہر کیا تھا جیسے دودھ سے بال نکالا جاتا ہے۔ وُہ خالقِ کل، رحمان و رحیم اور سب کے پردے رکھنے والا رب جانتا تھا کہ مجھ سا حقیرفقیرآدمی اس کٹھورتا کا حصہ نہیں بن سکے گا اور مفت میں کچلا جائے گا۔ انسان احسنِ تقویم ہونے کے ساتھ ساتھ اسفل السافلین بھی ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کو سکھ پہنچانے میں بھی اس کا کوئی ثانی مخلوق خدا میں نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے ہم جنسوں کو ایذا پہنچانے میں بھی اس کی مہارت تمام مخلوقات عالم سے برتر ہے اورپھرانسانوں میں بھی ایسے لوگ جوزبان کے زیروبم اور لہجے کی کاٹ کے علم سے لیس اور دولت ابتذال سے مالا مال ہوں اور حسب ضرورت یہ آلات جراحی برتنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں تو وُہ ایک دوسرے کو احسن طریقے سے ایذارسانی کرسکتے ہیں۔اور ایسے زخم لگاتے ہیں کہ نہ جن کا مرہم ہوتا اور نہ جن پر پٹی ہو سکتی ہے. یہ حضرات جب ایک دوسرے کو اپنے زہر آلود لہجوں والے ظالم رتھوں کے قاتل بھاری پہیوں سے کچلنے پر کمر کس لیں تو وہی ہوتا ہے جو اس وقت پاکستان خصوصا پنجاب کی ادبی فضا میں ہورہا ہے۔کل کے ایک دوسرے کو بھائی بھائی کرنے والے دوست، یار اور باپ اور بیٹا پکارنے والے ناہنجار ایک دوسرے کو ایسے ایسے کلمات قبیح سے نوازتے ہیں کہ رزق حلال کمانے اور کھانے والے معصوم معدہ شریفوں کے پاس سوائے قے کرنے کے کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا .
کیسے بچائیں اپنے دل کی خوشبو کو
دروازے پر گندی نالی دنیا ہے
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جاہل کی گالی بہت معصوم ہوتی ہے اور جلد ہی اس کا نقش دل ودماغ سے مٹ جاتا ہے اور اس کا زہر دم توڑ دیتا ہے لیکن ایک عالم اور زبان جاننے والے اور خود کو ادیب و شاعر کہلوانے پر بضد زبان دراز کی گالی کا سفر کبھی کبھار تو برسوں تک رہتا ہے اور پھر اس کا جو آپ کا ہم پیالہ و ہم نوالہ رہا ہو۔ شبلی کا پھول منصور کو لوگوں کے پتھروں سے زیادہ گہرا زخم دیتا ہے. خدا جانے وضعداری نام کی اس جنس کا کیا ہوا اور وُہ بازارِ ہوسِ بے مہار سےکب کیوں اور کہاں غائب ہو گئی.
آپ سوچتے ہوں گے کہ میں پروفیسر عقیل دانش صاحب کا خوبصورت ذکر کرتے کرتے اس بدصورتی کی طرف کیوں نکل گیاتو وُہ اس لیے کہ نصابِ محبت میں نفرت کا باب بھی لازمی پڑھنا اور پڑھانا پڑتا ہے
خیر مجھ ناچیز کی دعوت پر محترم جناب عقیل دانش صاحب نہ صرف خود تشریف لائے بلکہ اپنے ہمراہ سہیل ضرار خلش بھائی کو بھی لائے۔ جن سے مل کر انھیں برطانیہ قیام کے اتنے برسوں میں نہ ملنے کی خلش نے دل زار میں ایسے سر اٹھایا کہ اب اس کی سرکوبی کا واحد طریقہ ان سے لگاتار اور موسلادھار ملاقاتوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ تقریبا بائیس برس کی حجرہ نشینی اور بالخصوص ادبی تقریبات اور دنیا بھر میں ہونے والے مشاعروں میں خصوصی طور پر شرکت نہ کرنے کا بہرحال کچھ نہ کچھ نقصان تو ہوتا ہے کہ بہت سے کوئلے جیسے لوگوں سے نہ ملنے کے سُکھ کے ساتھ ساتھ کئی ہیرے جیسے لوگوں سے نہ ملنے کا دُکھ بھی جھیلنا پڑتا ہے۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ کوئلہ اور ہیرا اس دنیا کی کان میں ہمیشہ ہمسائے ہی ہوا کرتے ہیں۔ خیر زندگی کی پچاس بہاریں دیکھنے اور خزائیں جھیلنے کے بعد اب ترکِ ترک کا مرحلہ درپیش ہے لہذااب کوئلوں اور ہیروں سے یکساں خندہ پیشانی سے ملاقاتیں ہوتی رہیں گی شاعری میں بھی اور زندگی میں بھی۔ مجھ جیسے عاجز فقیر کے اس ترک کو ترک کرنے کے پس پردہ پہلے برطانیہ میں یارِ دلدار صابر رضا اور اب انتہائی بزرگ اور شفیق محترم عقیل دانش اور انتہائی مخلص دوست سہیل ضرار خلش کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اور آج کی یہ اونگی بونگی سی تحریر پر تقصیر ایک اعترافی بیان کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ سب سے ایک درخواست ہے کہ اب کئی برسوں بعد جب آپ علی ارمانؔ نام کے فتنے کو کہیں دوبارہ سر اٹھاتا دیکھیں تو ان یارانِ طرح داران و فتنہ پرورانِ محبت کا نام ضرور یاد رکھیے گا۔ اور ان کو اپنی دعاؤں میں آباد رکھیے گا۔ کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے