علی ارمان ایک مکمل شاعر
رشید امجد
علی ارمان کی شاعری میں فِکری تازگی اور جدید حِسّیت کا شعور اس کے تخلیقی عمل کا حِصّہ بن کر اس طرح شِعر میں ڈَھلا ہے کہ موضُوع اور فن دونوں میں اس کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔نئے امکانات کی تلاش اور موجود سے اٹھ کرناموجود کو محسوس کرنے کی حِس نےاس کی غزل میں فِکر کے نئے دریچے وا کیے ہیں۔ اس نے زندگی کی پیچیدگی، ہمہ جہتی اور اسرار کو اُس کے مُکمّل دائرے میں دیکھنے کی کوشِش کی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے یہاں انسانی رشتوں کی جذباتی کیفیّت بھی مِلتی ہےاور اُن سے اُوپر اُٹھ کر ان بڑے سوالوں تک پُہنچنے کی آرزو بھی جو موجود کے منظر میں ایک نیا ان دیکھا منظر کھولتی ہے
ہمارے نئے شعراء کے یہاں فنی ریاضت سے جان چھڑانے کے روّیے نے جو مسائل پیدا کیے ہیں ان سے بعض اوقات جَدِیدِیت کی تصویر خاصی مضحکہ خیز ہو جاتی ہےلیکن علی ارمان اپنی نسل کے ان چند شعراء میں سے ہے جس نے شعر خصوصاغزل کی روایت کا مطالعہ سے کے فنی دائرے میں رہ کرکیاہےاور اس روائتی توانائی کو جدید حسّیت کے ساتھ جوڑ کر اس نئے شعور کا کھوج لگانے کی سعی کی ہے جسے نئی غزل کی اساس کہا جاتا ہے۔ اس کے یہاں نئے زمانے کا شعور اور جدید حسیت صرف احساس کی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس نے نئے رویّوں اور نئے امکانات کو اپنےعہد کے مسائل سے ہم آہنگ کرکے ان نئے انکشافات اور علوم کے نئے دریچوں تک رسائی حاصل کرنے کی سعی کی ہے جو نئے عہد کی پہچان ہیں۔ اس کا تحیّر اور تجسّس شعر میں سوال بھی پیدا کرتا ہے اور اسے معنوی ہمہ جہتی بھی عطا کرتا ہے۔ وقت اور کائنات کے درمیان انسانی بےچارگی پر غور وفکر کی یہ کیفیت اُسے اُن بڑے اور ازلی سوالوں تک لے جاتی ہےجو اس سارے کائناتی اسرار کو سمجھنے کی بنیادی کلید ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وُہ اپنے عہد کےزمینی مسائل سے کٹا ہوا ہے۔ اس کی غزل میں یہ دونوں سطحیں موجود ہیں۔ سیاسی سماجی مسائل کو ایک نظریاتی آنکھ سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ وُہ زندگی کے دیگر بڑے مسائل سے بھی آگاہ ہے۔ اس کا آدمی احساس اور فکر دونوں سطحوں پر جی رہا ہے۔
علی ارمان اپنی نسل کے ان چند محدود شعراء میں سے ہے جن کے یہاں فنی ریاضت کا احساس ہوتا ہے۔ مصرع کی بُنت میں پختگی، الفاظ کی نشست میں سلیقگی، زوائد سے گریز، تراکیب میں نفاست اور ندرت اور غزل کی فنی روایت سے قربت اس کی فنی محنت اور لگن کا پتہ دیتی ہے۔ اس کی فنی ہنرمندی اور شعر میں جمالیاتی کیفیتوں کے احساس نےاس کی فکری تازگی میں ایک پختگی پیدا کی ہے جو اس کی نسل کے اکثر شعراء کے یہاں ناپید ہے۔ اس کا پہلا مجموعہ سخن تصویر تک پہنچا نئے امکانات، نئے خوابوں کا ایک ایسا منظر نامہ ہے جو تادیر اپنا سحر قائم رکھتا ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے ایک نئے شاعر کا سراپا ابھرتا ہے۔ ایک ایسا شاعر جو فنی محنت پرایمان رکھتا ہےاور تخلیقی عمل کی پیچیدگیوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تخلیقی لمحے کی مسرت کی تلاش میں اس پر جنونی کیفیت بھی طاری ہوتی ہے اور اس عمل سے گزرتے ہوئے اسے شانت ہونے کا گُر بھی آتا ہے۔
یہ مجموعہ اِس کا پہلا پڑاؤ ہے۔ اس کی لگن، جذبے اور تخلیقی آگ کی تپش اس مجموعے کے ہرشعر سے ظاہرہوتی ہے۔ یہ آگ اسے کندن بناتی جائے گی اور اس کی اگلی جست یقینا اس بڑےامکان کے دروازے وا کرے گی جو انفردی پہچان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے